Showing posts with label نمرہ عباس. Show all posts
Showing posts with label نمرہ عباس. Show all posts

Tuesday, November 23, 2021

کبھی پھول تھی یہ زندگی

 کبھی پھول تھی یہ زندگی 

اب فقط جال ہے 

کبھی عروج پر تھا کارواں 

اب ہر جگہ زوال ہے 

کبھی روشنی تھی دوست میری 

اب خوشیوں کا کال ہے 

کبھی راستے تھے منتظر میرے 

اب کمزور اپنی چال ہے 

کبھی وحشتوں میں سکوں بھی تھا 

اب زندگی اک وبال ہے

کبھی تلوار بھی تھی نیام میں 

اب بس اک ڈھال ہے 

کبھی دوستوں کی کمی نہ تھی 

اب اپنوں کا قحط و الرجال ہے ۔۔۔

بقلم نمرہ عباس

میرے عام سے کمرے میں

 میرے عام سے کمرے میں 

یادوں کی الماری ہے 

جہاں چند کتابیں سجی ہیں 

کچھ پڑھ لی گئی ہیں 

کچھ کو پڑھنے کی باری ہے 

میرے عام سے کمرے میں 

ایک میز بھی ہے نام کی 

بس ایک خالی مگ پڑا ہے

 اور کوئی شے نہیں کام کی 

میرے عام سے کمرے میں 

کونے پر ایک آئینہ بھی رکھا ہے 

جانے کیوں پھر بھی 

کمرہ ادھورا  سا لگتا ہے 

میرے عام سے کمرے میں 

چند پرانے کھلونے بھی رکھے ہیں 

بچپن کو اپنے میں نے 

گویا سمبھال رکھا ہے 

میرے عام سے کمرے میں

 ابھی کچھ کمی باقی ہے 

پردوں کا رنگ خاکی ہے 

میرے عام سے کمرے میں

 سجاوٹ کی گنجائش باقی ہے 

اور کھڑکی سے آتی سرد ہوا

اکثر گرم موسم میں 

میرے دل کو لبھاتی ہے 

میرے عام سے کمرے میں 

 ۔۔۔۔


از قلم نمرہ عباس۔

Learn how to give up.

  غور و فکر کریں اُن تمام نعمتوں پر جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہیں (کاؤنٹ) کریں پھر ان کو نوٹ ڈاون کریں اور پھر ایک دوسری جگہ وہ چیزیں لکھیں جن...